لامتناہی

Published November 1, 2019 by sidmary

میرے تخیل کی بربادیوں میں

تمہارا بھی حصہ ہے

وقت تو ازل اور ابد کی معین مقرر حدوں میں

مقید ہی ہے

میری ذات اور اس زمیں کی تخلیق سے

ان پر گزری ہوئ ایک ایک ساعت کا بھی حساب ہو اگر

تو یہ وقت اتنا بھی لمبا نہیں.

اور میری موت تک

یا ابد تک بھی جتنے بھی لمحے لکھے ہیں

وہ سب ایک گنتی کے مقروض ہیں

اگر مری اور تمہاری تباہ حالیاں

ان متعین حدوں کے سارے زمانوں پہ بھی پھیلی ہوتیں

تو کم تھا اس سے

کہ میرے تخیل, تصور میں

وقت اور زماں کی ہر اک قید سے بالاتر

ہر زمانے کی وسعت میں دس اور زماں کی اضافت, جمع جتنی مدت میں

خیال اور حقیقت کی حد کے کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف

لمحہ لمحہ صدی جتنے میرے تخیل میں یہ رقم ہوتیں

پر ایسا ہی ہے

وقت تو اک مقرر سی چھوٹی سی مدت ہے

وہ لفظ ‘لا متناہی’ تو شاید فقط میری سوچوں کی وسعت کی تعریف کے ہی لئے خلق ہوا

ان کی بربادیوں اور تباہ حالیوں, ان کی تنہائیوں کو بھی سوچو کبھی

ان میں تم اپنا حصہ بھی دیکھو کبھی

سدرہ مریم

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: