اگر دو خدا ہوتے سنسار میں

Published October 24, 2019 by sidmary

بارہا پڑھا سنا اور سوچا کہ اگر خدانخواستہ ایک سے زائد خدا ہوتے تو بےچارے انسان کا کیا بنتا۔ اس کی ایک مثال اکثر دی جاتی تھی کہ تعلیمی ادارے میں اگر پرنسپل اور وائس پرنسپل دونوں ہی مختار کل ہوتے تو دونوں ہی کو اپنے اصول و ضوابط لاگو کرنے کا شوق ہوتا۔ وہ اپنے اپنے احکام جاری کرتے جو اکثر متضاد ہوتے اور نتیجتا ادارے میں افرا تفری اور شدید بد نظمی پیدا ہوتی، کوئی کام درستی سے ہو جانا تو محال، ہونا ہی مشکل ہو جاتا ۔ نظام بھی درہم برہم ہوتا اور اس میں رہنے والے لوگوں کا ذہنی سکون بھی۔
اس مثال پر ہمیشہ تصوراتی تخلیاتی طور پر ہی غور کرنے کا موقعہ ملا تھا، گزشتہ سال اس کو عین الیقین کے ساتھ کارفرما دیکھ لیا۔

غالبا مئی کی بات ہے جب ہمارے امتحانات کی آمد آمد تھی کہ اچانک ایک طویل کیس کی سماعت کے بعد کورٹ کا فیصلہ منظر عام پر آیا کہ تمام میڈیکل کالجز جن میں سیمسٹر کی بنیاد پر امتحانات لیے جاتے ہیں اب سالانہ بنیادوں پر امتحانا ت ہوا کریں گے، اور یہ کہ یہ فیصلہ پی ایم ڈی سی کی منظوری کے بعد فی الفور نافذ العمل ہوگا۔ کچھ ہی دنوں میں اطلاع موصول ہوئ کہ پی ایم ڈی سی نے منظوری دے دی ہےاور پورے تعلیمی نظام کی یہ تبدیلی فی الفور نافذ العمل ہو گی۔ ان دنوں ہمارے یونیوسٹی میں طلباء و طالبات حراساں بھاگتے دوڑتے نظر آتے تھے۔ کہیں چپکے سے کوئ رو رہا ہوتا تھا، کوئ بار بار انتظامی دفاتر کا چکر لگا رہا ہوتا تھا کہ امتحانات کی تیاری کی جائے یا نہ کی جائے ؟ بیرون شہر یا ملک جانے کے ٹکٹ کروا لیے جائیں یا نا کروائے جائیں؟ جو پرنسپل کے دفتر جاتا وہ الگ اطلاع لے کر پلٹتا۔ جو امتحانی پرچوں کے دفتر کا رخ کرتا وہ الگ سندیسہ لاتا اور جو سٹوڈنٹ برانچ جاتاوہ کوئی اور بات کہتا۔

ملک کے ممتاز ترین تعلیمی ادارے میں گویا مذاق کی طرح کئی ہفتے یہ تگ و دو جاری رہی۔ بالآخر یہ فیصلہ صادر ہوا کہ 20 دن کے امتحانی وقفے کے بجائے سیمسٹر کی کلاسز کے اختتام پر ایک مہینے کی تعطیلات ہوں گی۔ اس کے بعد نام نہاد اگلے سیمسٹر کا آغاز ہو جائے گا۔ نئے سیمسٹر کے دو تین ھفتے گزر جانے کے بعد ایک ھفتے کا امتحانی وقفہ ہو گا جس کے بعد پچھلے سیمسٹر کے امتحانات اسی طرح ہوں گے جس طرح ہوتے آئے ہیں۔ البتہ سال کے آخر پر سالانہ امتحانات کی شرط کو پورا کرنے کے لیے ایک اضافی پرچہ شامل کر لیا جائے گا جس میں پہلے سیمسٹر کے سارے مضامین سے سوالات ہوں گے۔

فیصلہ اگرچہ پسندیدہ نہیں تھا مگر قابل قبول تھا اور ہم نے یونیوسٹی انتظامیہ کے اس حکم نامے پر برضا سر تسلیم خم کر لیا۔

کچھ اسی وقت کی بات ہے کہ اقرباء کے توسط سے میڈکل کالجز میں داخلے کے لیے ہونے والے این ٹی ایس کے امتحانات کے حوالے سے جاری ہونے والے پارہ صفت پروانے نظروں سے گزرتے رہے۔ اے لیول اور انٹر کے امتحانات کے جون میں ختم ہونے کے بعد پہلے پہل جو اعلان ہوئے وہ کچھ یوں تھے کے این ٹی ایس کا پرچہ اگست کے اواخر میں ہو گا اور 2 گھنٹوں میں 100 سوالات کے بجائے ڈھائی گھنٹوں میں 200 سوالات پر مبنی ہوگا اور سوالات کا تناسب بھی مختلف ہو گا۔ بورڈ کے امتحانات کے بعد یہ ڈھائی تین مہینوں کا مختصر وقفہ تھا جس میں اے لیول کے طلبا کو انٹر کے دو سال پر مبنی نصاب کی چھ کتابوں کو صفحہ اول سے پڑھنا تھا اور انٹر کے طلبا کو نئے انداز سے۔ اگرچہ مضامین کی مناسبت سے سوالات کے تناسب میں تبدیلی اچھی بات تھی مگر اس عرصے میں انٹر کے طلبا کے لیےجنہوں نے اپنے تعلیمی نظام میں کبھی ایم سی کیو کرنا سیکھے ہی نہیں ، یہ فیصلہ شدید تشویش ناک تھا ۔ اے لیول کے طلبا الگ پریشان تھے کہ چھ کتابوں کے لیے وہ جو پانچ چھ مہینے سوچ کر بیٹھے تھے اب وہ میسر نہ تھے۔

داخلے کی پالیسیز میں کچھ خوش آیند باتیں بھی تھیں کہ گورمنٹ اداروں میں داخلوں سے پہلے پرائوٹ ادارے داخلے نہیں لیں گے ، کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ ادارے میں داخلے کے لیے انٹر میں کم از کم 70 فیصد مارکس اور این ٹی ایس میں کم از کم 120 نمبر حاصل کرنا لازمی ہو گا۔ اور یہ کہ پرائیوٹ ادارے ایک مقررہ حد سے زیادہ فیس نہیں لیں گے۔ ان پالیسیز سے امید تھی کہ پرائیوٹ اداروں کی دھاندلیوں میں کچھ کمی واقعہ ہو گی جن کی فیسیں آسمانوں پر ہوتی ہیں۔ سرکاری اداروں میں داخلوں سے پہلے داخلے لے لینے کی وجہ سے بہت سے افراد سرکاری ادارے میں داخلہ نہ ملنے کے اندیشے سے اپنی سیٹ رکھنے کے لیے داخلے کی فیس جمع کروا دیتے ہیں جس کی واپسی نہیں ہوتی اور یہ بھی ان اداروں کے لیے کثیر کمائی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اہلیت کا معیار قائم کرنے سے امید تھی کہ نا اہل طلبا صرف پیسوں کی بنیاد پر اس حساس شعبے میں داخل ہونے سے روک دیے جائیں گے جس کی پڑھائی بھی ان کے بس سے باہر ہوتی ہے اور ڈگری مل جانے کے بعد جو معاشرے کے لیے بھی اکثر ناسور بنتے ہیں۔

امتحان کا دن جیسے جیسے قریب آتا گیا اس کی حتمی تاریخ انعقاد کے حوالے سے اتنی ہی صورتحال غیر یقینی ہوتی گئی۔ بالآخر دو دفعہ تاخیر کے بعد امتحان لے ہی لیا گیا۔

دستاویزات جمع کروانے کے بعد فہرست لگنے کی پہلی تاریخ 14 اکتوبر کا اعلان ہوا ، مگر ایسا ہو جائے یہ آخر کیسے ممکن تھا؟ امتحان کے صبر آزما مرحلے سے گزرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں طلبا ایک بار پھر انگشت بدنداں ہیں۔ امتحان سے پہلے جاری ہونے والے پروانےجن میں داخلے کی نئی پالسیز کا اعلان تھا ایک بار پھر ارباب اختیار کے درمیان زیر بحث ہیں اور داخلے پہلے کی طرح لیے جانے پر باتیں ہو رہی ہیں گویا اتنی اندھیر نگری ہے کہ اچھائی کے فیصلے پر پچھتایا جا رہا ہے۔ چنانچہ کسی کو داخلہ ہوتے ہوتے نہ ہونے کا دھڑکا لگا ہےاورکسی کو نہ ہوتے ہوتے داخلہ مل جانے کی امید نے باندھے رکھا ہے۔
جاننے والے کچھ متاثر طلبا کا غم غلط کرنے کی کوششوں کے دوران مگر اپنے اوپر ہی ایک نو وارد غم آن پڑا۔ یونیوسٹی انتظامیہ کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ اس سال کے امتحانات کے لیے ادارے نے جو امتحانی پالیسی تشکیل دی تھی اسے پی ایم ڈی سی ‘سالانہ امتحان’ ماننے سے انکاری ہے۔ لہذا پچھلے سیمسٹر کے سارے مضامین پر مبنی ایک پرچے کے بجائے اس نام نہاد سیمسٹر کے امتحانات کے ساتھ ساتھ پچھلے سیمسٹر کے سارے مضامین کے 3-4 پرچے اور وائوا الگ الگ ہی ہوں گے، اور پچھلے نام نہاد سیمسٹر کے پرچوں کی اب کوئی حیثیت ہو گی بھی تو نا ہونے کے برابر۔ صورتحال ایسے مراحل میں داخل ہو چکی تھی کہ طلبا اور انتظامیہ دونوں ہی احتجاج کرنے یا مزید کسی تبدیلی کے لیے تحریک چلانے کے حوالے سے خود کو مجبور پاتے تھے، کہ اتنے میں صدارتی اعلان جاری ہو کہ۔۔۔

پی ایم ڈی سی کے ادارے کو ہی تحلیل کر دیا گیا ہےاور اسے ایک نئے ادارے پی ایم سی کے تحت کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ مزید یہ کہ ایک ہفتے تک اس کے دفاتر پر تالا پڑا رہے گا۔
ہم اس شش و پنج میں مبتلا تھے کہ اس خبر پر خوش ہوا جائے یا پریشان کہ اتنی دیر میں باقی تفصیلات منظر عام پر آئیں اور ہمیں یقین ہوگیا کہ خوشیوں کے سارے دن تو عرصہ ہوا بیت چکے ہیں۔ پرائیوٹ اداروں پر لگائی جانے والی قد غنیں کھول دی گئی ہیں اور ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے امتحانات سے بعد ہاؤس جاب کا اہل ہونے کے لیے طلبا کو ایک مزید این ایل ای کا امتحان دینا ہو گا جو اس سے پہلے صرف بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے افراد کے لیے پریکٹس کی اجازت کے لیے لازمی ہو تا تھا۔

آخر اگر ماہرین طب کے معیار کو قائم رکھنا ہے تو اداروں میں داخلے کے وقت جو چھان پھٹک کا معیار قائم کیا تھا اس سے کیوں پیچھے ہٹے؟ اگر جامعات کے تعلیمی معیار پر اطمینان نہیں ہے تو اس نظام کی بہتری کے لیے کیوں منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی؟ اس کے بجائے اگر مزید ایک امتحان کو لازمی کیا جا رہا ہے تو فائدہ تو صرف اور صرف حکومت کے کوائفوں کا ہے۔

سال شروع سے جو بیت رہی ہے اس پر بس یہ سوچ رہی ہوں کہ “گئے ہم بھی تھے دیکھنے ‘اور تماشا بھی ہوا'”

یہاں ہر ایک مختار کل بنا بیٹھا تھا۔ میڈیکل کی تعلیم کے ماہرین ملک بھر میں اتنے ہیں کہ ہاتھوں پر گن لیے جائیں۔ عدالت ان معاملوں میں فیصلے صادر کر دیتی ہے جو اس کے حدود اختیار میں کم از کم عقلا تو نہیں آتے۔ تعلیمی نظاموں کی تبدیلی جو اصولا کئی سالوں کی تحقیق اور تجربہ کی محتاج ہوتی ہے، فی الفور نافذالعمل فیصلوں کی مار ٹھہرتی ہے۔ حکومتی فیصلے کسی بھی بہتر متبادل کو پیش کیے بغیر رائج چیزوں پر خط نسخ پھیر دیتے ہیں۔ اور سب سے فیصلہ کن اختیار تو پردے کے پیچھے چھپے ان سرمایہ کاروں کا ہوتا ہے جن کے لیے صحت ہو تعلیم یا حساس ادارے، سب کاروبار ہوتے ہیں۔

نوحہ تو لازم ہے، مگر کس پر کروں؟ مستقبل قریب پر جس میں سارے امتحانات دوبارہ دینے ہیں؟ یا پھر مستقبل بعید پر؟ جس میں این ایل ای کا امتحان سر پر لٹک رہا ہے؟ یا شاید ماضی سب سے زیادہ میرے نوحوں کا حقدار ہے، کہ آخر کن لوگوں کو اپنے معاملات پر تسلط دے دیا۔

سدرہ مریم

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: