نسبتیں

Published February 17, 2020 by sidmary

یہ ساری نسبتیں
حسرت کی, بارش سے…
پرائ ہیں.

مرے تو شہر میں ساون
فلک کے سارے در کھلنے کا موقعہ ہے

یہ قطرے جو بلندی سے مرے آنگن میں آتے ہیں
کسی کے بند ہونٹوں کی دعا,
کوئ آرزو مقبول ہونے کا
پیام ہوتے ہیں

کھلے در کی خبر پاکر
کسی زنگ خوردہ حسرت کو
اوپر آسمانوں تک سفر کا اذن ملتا ہے

اور اگر ایسے میں
کوئ
یاد آجائے
تو آنکھوں کی نمی دھونے کو
بارش پاس ہوتی ہے
اگر دل کا زخم کوئ کھل بھی جائے تو
خوشبو, ہوا, پانی
سبھی مرحم لگاتے ہیں

وہ کہتے ہیں
کہ اس موسم میں داغ دل ابھرتا ہے
وہ کیا جانیں
کہ میرے شہر میں
ساون میں
داغ دل اترتے ہیں

لامتناہی

Published November 1, 2019 by sidmary

میرے تخیل کی بربادیوں میں

تمہارا بھی حصہ ہے

وقت تو ازل اور ابد کی معین مقرر حدوں میں

مقید ہی ہے

میری ذات اور اس زمیں کی تخلیق سے

ان پر گزری ہوئ ایک ایک ساعت کا بھی حساب ہو اگر

تو یہ وقت اتنا بھی لمبا نہیں.

اور میری موت تک

یا ابد تک بھی جتنے بھی لمحے لکھے ہیں

وہ سب ایک گنتی کے مقروض ہیں

اگر مری اور تمہاری تباہ حالیاں

ان متعین حدوں کے سارے زمانوں پہ بھی پھیلی ہوتیں

تو کم تھا اس سے

کہ میرے تخیل, تصور میں

وقت اور زماں کی ہر اک قید سے بالاتر

ہر زمانے کی وسعت میں دس اور زماں کی اضافت, جمع جتنی مدت میں

خیال اور حقیقت کی حد کے کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف

لمحہ لمحہ صدی جتنے میرے تخیل میں یہ رقم ہوتیں

پر ایسا ہی ہے

وقت تو اک مقرر سی چھوٹی سی مدت ہے

وہ لفظ ‘لا متناہی’ تو شاید فقط میری سوچوں کی وسعت کی تعریف کے ہی لئے خلق ہوا

ان کی بربادیوں اور تباہ حالیوں, ان کی تنہائیوں کو بھی سوچو کبھی

ان میں تم اپنا حصہ بھی دیکھو کبھی

سدرہ مریم

اگر دو خدا ہوتے سنسار میں

Published October 24, 2019 by sidmary

بارہا پڑھا سنا اور سوچا کہ اگر خدانخواستہ ایک سے زائد خدا ہوتے تو بےچارے انسان کا کیا بنتا۔ اس کی ایک مثال اکثر دی جاتی تھی کہ تعلیمی ادارے میں اگر پرنسپل اور وائس پرنسپل دونوں ہی مختار کل ہوتے تو دونوں ہی کو اپنے اصول و ضوابط لاگو کرنے کا شوق ہوتا۔ وہ اپنے اپنے احکام جاری کرتے جو اکثر متضاد ہوتے اور نتیجتا ادارے میں افرا تفری اور شدید بد نظمی پیدا ہوتی، کوئی کام درستی سے ہو جانا تو محال، ہونا ہی مشکل ہو جاتا ۔ نظام بھی درہم برہم ہوتا اور اس میں رہنے والے لوگوں کا ذہنی سکون بھی۔
اس مثال پر ہمیشہ تصوراتی تخلیاتی طور پر ہی غور کرنے کا موقعہ ملا تھا، گزشتہ سال اس کو عین الیقین کے ساتھ کارفرما دیکھ لیا۔

غالبا مئی کی بات ہے جب ہمارے امتحانات کی آمد آمد تھی کہ اچانک ایک طویل کیس کی سماعت کے بعد کورٹ کا فیصلہ منظر عام پر آیا کہ تمام میڈیکل کالجز جن میں سیمسٹر کی بنیاد پر امتحانات لیے جاتے ہیں اب سالانہ بنیادوں پر امتحانا ت ہوا کریں گے، اور یہ کہ یہ فیصلہ پی ایم ڈی سی کی منظوری کے بعد فی الفور نافذ العمل ہوگا۔ کچھ ہی دنوں میں اطلاع موصول ہوئ کہ پی ایم ڈی سی نے منظوری دے دی ہےاور پورے تعلیمی نظام کی یہ تبدیلی فی الفور نافذ العمل ہو گی۔ ان دنوں ہمارے یونیوسٹی میں طلباء و طالبات حراساں بھاگتے دوڑتے نظر آتے تھے۔ کہیں چپکے سے کوئ رو رہا ہوتا تھا، کوئ بار بار انتظامی دفاتر کا چکر لگا رہا ہوتا تھا کہ امتحانات کی تیاری کی جائے یا نہ کی جائے ؟ بیرون شہر یا ملک جانے کے ٹکٹ کروا لیے جائیں یا نا کروائے جائیں؟ جو پرنسپل کے دفتر جاتا وہ الگ اطلاع لے کر پلٹتا۔ جو امتحانی پرچوں کے دفتر کا رخ کرتا وہ الگ سندیسہ لاتا اور جو سٹوڈنٹ برانچ جاتاوہ کوئی اور بات کہتا۔

ملک کے ممتاز ترین تعلیمی ادارے میں گویا مذاق کی طرح کئی ہفتے یہ تگ و دو جاری رہی۔ بالآخر یہ فیصلہ صادر ہوا کہ 20 دن کے امتحانی وقفے کے بجائے سیمسٹر کی کلاسز کے اختتام پر ایک مہینے کی تعطیلات ہوں گی۔ اس کے بعد نام نہاد اگلے سیمسٹر کا آغاز ہو جائے گا۔ نئے سیمسٹر کے دو تین ھفتے گزر جانے کے بعد ایک ھفتے کا امتحانی وقفہ ہو گا جس کے بعد پچھلے سیمسٹر کے امتحانات اسی طرح ہوں گے جس طرح ہوتے آئے ہیں۔ البتہ سال کے آخر پر سالانہ امتحانات کی شرط کو پورا کرنے کے لیے ایک اضافی پرچہ شامل کر لیا جائے گا جس میں پہلے سیمسٹر کے سارے مضامین سے سوالات ہوں گے۔

فیصلہ اگرچہ پسندیدہ نہیں تھا مگر قابل قبول تھا اور ہم نے یونیوسٹی انتظامیہ کے اس حکم نامے پر برضا سر تسلیم خم کر لیا۔

کچھ اسی وقت کی بات ہے کہ اقرباء کے توسط سے میڈکل کالجز میں داخلے کے لیے ہونے والے این ٹی ایس کے امتحانات کے حوالے سے جاری ہونے والے پارہ صفت پروانے نظروں سے گزرتے رہے۔ اے لیول اور انٹر کے امتحانات کے جون میں ختم ہونے کے بعد پہلے پہل جو اعلان ہوئے وہ کچھ یوں تھے کے این ٹی ایس کا پرچہ اگست کے اواخر میں ہو گا اور 2 گھنٹوں میں 100 سوالات کے بجائے ڈھائی گھنٹوں میں 200 سوالات پر مبنی ہوگا اور سوالات کا تناسب بھی مختلف ہو گا۔ بورڈ کے امتحانات کے بعد یہ ڈھائی تین مہینوں کا مختصر وقفہ تھا جس میں اے لیول کے طلبا کو انٹر کے دو سال پر مبنی نصاب کی چھ کتابوں کو صفحہ اول سے پڑھنا تھا اور انٹر کے طلبا کو نئے انداز سے۔ اگرچہ مضامین کی مناسبت سے سوالات کے تناسب میں تبدیلی اچھی بات تھی مگر اس عرصے میں انٹر کے طلبا کے لیےجنہوں نے اپنے تعلیمی نظام میں کبھی ایم سی کیو کرنا سیکھے ہی نہیں ، یہ فیصلہ شدید تشویش ناک تھا ۔ اے لیول کے طلبا الگ پریشان تھے کہ چھ کتابوں کے لیے وہ جو پانچ چھ مہینے سوچ کر بیٹھے تھے اب وہ میسر نہ تھے۔

داخلے کی پالیسیز میں کچھ خوش آیند باتیں بھی تھیں کہ گورمنٹ اداروں میں داخلوں سے پہلے پرائوٹ ادارے داخلے نہیں لیں گے ، کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ ادارے میں داخلے کے لیے انٹر میں کم از کم 70 فیصد مارکس اور این ٹی ایس میں کم از کم 120 نمبر حاصل کرنا لازمی ہو گا۔ اور یہ کہ پرائیوٹ ادارے ایک مقررہ حد سے زیادہ فیس نہیں لیں گے۔ ان پالیسیز سے امید تھی کہ پرائیوٹ اداروں کی دھاندلیوں میں کچھ کمی واقعہ ہو گی جن کی فیسیں آسمانوں پر ہوتی ہیں۔ سرکاری اداروں میں داخلوں سے پہلے داخلے لے لینے کی وجہ سے بہت سے افراد سرکاری ادارے میں داخلہ نہ ملنے کے اندیشے سے اپنی سیٹ رکھنے کے لیے داخلے کی فیس جمع کروا دیتے ہیں جس کی واپسی نہیں ہوتی اور یہ بھی ان اداروں کے لیے کثیر کمائی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اہلیت کا معیار قائم کرنے سے امید تھی کہ نا اہل طلبا صرف پیسوں کی بنیاد پر اس حساس شعبے میں داخل ہونے سے روک دیے جائیں گے جس کی پڑھائی بھی ان کے بس سے باہر ہوتی ہے اور ڈگری مل جانے کے بعد جو معاشرے کے لیے بھی اکثر ناسور بنتے ہیں۔

امتحان کا دن جیسے جیسے قریب آتا گیا اس کی حتمی تاریخ انعقاد کے حوالے سے اتنی ہی صورتحال غیر یقینی ہوتی گئی۔ بالآخر دو دفعہ تاخیر کے بعد امتحان لے ہی لیا گیا۔

دستاویزات جمع کروانے کے بعد فہرست لگنے کی پہلی تاریخ 14 اکتوبر کا اعلان ہوا ، مگر ایسا ہو جائے یہ آخر کیسے ممکن تھا؟ امتحان کے صبر آزما مرحلے سے گزرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں طلبا ایک بار پھر انگشت بدنداں ہیں۔ امتحان سے پہلے جاری ہونے والے پروانےجن میں داخلے کی نئی پالسیز کا اعلان تھا ایک بار پھر ارباب اختیار کے درمیان زیر بحث ہیں اور داخلے پہلے کی طرح لیے جانے پر باتیں ہو رہی ہیں گویا اتنی اندھیر نگری ہے کہ اچھائی کے فیصلے پر پچھتایا جا رہا ہے۔ چنانچہ کسی کو داخلہ ہوتے ہوتے نہ ہونے کا دھڑکا لگا ہےاورکسی کو نہ ہوتے ہوتے داخلہ مل جانے کی امید نے باندھے رکھا ہے۔
جاننے والے کچھ متاثر طلبا کا غم غلط کرنے کی کوششوں کے دوران مگر اپنے اوپر ہی ایک نو وارد غم آن پڑا۔ یونیوسٹی انتظامیہ کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ اس سال کے امتحانات کے لیے ادارے نے جو امتحانی پالیسی تشکیل دی تھی اسے پی ایم ڈی سی ‘سالانہ امتحان’ ماننے سے انکاری ہے۔ لہذا پچھلے سیمسٹر کے سارے مضامین پر مبنی ایک پرچے کے بجائے اس نام نہاد سیمسٹر کے امتحانات کے ساتھ ساتھ پچھلے سیمسٹر کے سارے مضامین کے 3-4 پرچے اور وائوا الگ الگ ہی ہوں گے، اور پچھلے نام نہاد سیمسٹر کے پرچوں کی اب کوئی حیثیت ہو گی بھی تو نا ہونے کے برابر۔ صورتحال ایسے مراحل میں داخل ہو چکی تھی کہ طلبا اور انتظامیہ دونوں ہی احتجاج کرنے یا مزید کسی تبدیلی کے لیے تحریک چلانے کے حوالے سے خود کو مجبور پاتے تھے، کہ اتنے میں صدارتی اعلان جاری ہو کہ۔۔۔

پی ایم ڈی سی کے ادارے کو ہی تحلیل کر دیا گیا ہےاور اسے ایک نئے ادارے پی ایم سی کے تحت کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ مزید یہ کہ ایک ہفتے تک اس کے دفاتر پر تالا پڑا رہے گا۔
ہم اس شش و پنج میں مبتلا تھے کہ اس خبر پر خوش ہوا جائے یا پریشان کہ اتنی دیر میں باقی تفصیلات منظر عام پر آئیں اور ہمیں یقین ہوگیا کہ خوشیوں کے سارے دن تو عرصہ ہوا بیت چکے ہیں۔ پرائیوٹ اداروں پر لگائی جانے والی قد غنیں کھول دی گئی ہیں اور ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے امتحانات سے بعد ہاؤس جاب کا اہل ہونے کے لیے طلبا کو ایک مزید این ایل ای کا امتحان دینا ہو گا جو اس سے پہلے صرف بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے افراد کے لیے پریکٹس کی اجازت کے لیے لازمی ہو تا تھا۔

آخر اگر ماہرین طب کے معیار کو قائم رکھنا ہے تو اداروں میں داخلے کے وقت جو چھان پھٹک کا معیار قائم کیا تھا اس سے کیوں پیچھے ہٹے؟ اگر جامعات کے تعلیمی معیار پر اطمینان نہیں ہے تو اس نظام کی بہتری کے لیے کیوں منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی؟ اس کے بجائے اگر مزید ایک امتحان کو لازمی کیا جا رہا ہے تو فائدہ تو صرف اور صرف حکومت کے کوائفوں کا ہے۔

سال شروع سے جو بیت رہی ہے اس پر بس یہ سوچ رہی ہوں کہ “گئے ہم بھی تھے دیکھنے ‘اور تماشا بھی ہوا'”

یہاں ہر ایک مختار کل بنا بیٹھا تھا۔ میڈیکل کی تعلیم کے ماہرین ملک بھر میں اتنے ہیں کہ ہاتھوں پر گن لیے جائیں۔ عدالت ان معاملوں میں فیصلے صادر کر دیتی ہے جو اس کے حدود اختیار میں کم از کم عقلا تو نہیں آتے۔ تعلیمی نظاموں کی تبدیلی جو اصولا کئی سالوں کی تحقیق اور تجربہ کی محتاج ہوتی ہے، فی الفور نافذالعمل فیصلوں کی مار ٹھہرتی ہے۔ حکومتی فیصلے کسی بھی بہتر متبادل کو پیش کیے بغیر رائج چیزوں پر خط نسخ پھیر دیتے ہیں۔ اور سب سے فیصلہ کن اختیار تو پردے کے پیچھے چھپے ان سرمایہ کاروں کا ہوتا ہے جن کے لیے صحت ہو تعلیم یا حساس ادارے، سب کاروبار ہوتے ہیں۔

نوحہ تو لازم ہے، مگر کس پر کروں؟ مستقبل قریب پر جس میں سارے امتحانات دوبارہ دینے ہیں؟ یا پھر مستقبل بعید پر؟ جس میں این ایل ای کا امتحان سر پر لٹک رہا ہے؟ یا شاید ماضی سب سے زیادہ میرے نوحوں کا حقدار ہے، کہ آخر کن لوگوں کو اپنے معاملات پر تسلط دے دیا۔

سدرہ مریم

Constellation

Published February 5, 2018 by sidmary

O City,

Rushing, running on your way

With loud and boisterous sounds, 

Stopping nowhere, no matter the time…
You are static

From high above. 

A constellation of twinkling lights

And slow moving torches

In complete silence. 
All rooftops are the same.

All roads are mere winding lines. 

There are no people. 

And year after year 

There are only structures erected

At some height from the ground-

Marks and stains of human life.
They are right who say that 

“Things change from high above.”

Life slows and sounds cease to be. 
And hush now, O City, proud and wide: 

You are but a slow moving 

Near static constellation.
-S.M

.

Published February 9, 2017 by sidmary

​Today, while listening to Surah Maryam, there was a point when I was truly shaken. Right at the beginning of the Surah, Hz Zakariyya in his old age prays for progeny. He does not ask Allah swt for offspring to love or cherish, or that would support him in old age, or that would carry on his lineage. His wish for an offspring is way beyond personal. He says:
“And I fear my relations after me, and my wife is barren, then bestow me from Yourself any one who may takeover my work’.
He should be my heir and be the heir of the children of Yaqub and O my Lord! Make him acceptable’.”
He prays for a progeny that would spread the word of Allah after him; that would follow in the footseps of the Prophets (Alayehi salaam), and that would enjoin the good, and forbid the wrong. 
Additionally, we see a clear manifestation of the social responsibility that Hz Zakariyya feels, and the love and concern that he has for his people inspite of their transgressions.
No wonder that Allah swt gives him the glad tidings of Hz Yahya.. and says:
‘O Zakaria! We give you glad tiding of a son whose name is Yahya. We have not made anyone of this name before him.’
And that:
‘And peace is on him the day when he was born and the day, when he will die and the day when he will beraised alive.’
SubhanAllah!!
And today, with parents worrying and complaining about their children all the time, let ua ponder on what we really want and expect from our progeny. It the minds and the hearts, the visions and the aims of the parents that are reflected in their offspring. 
“رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاماً” 
‘Our Lord! Grant unto us spouses and offspring who will be the comfort of our eyes, and give us (the grace) to lead the righteous.’
Ameen!
-S.M.

Synapses

Published January 29, 2017 by sidmary

I learnt

That your senses are all linked 

By synapses.

That is why when you flip through an album 

Of a love now lost,

You can hear from the pictures,

A soft, murmuring whisper

In your ears.

You can feel exactly-

The touch of his skin:

Soft, warm- And now cold

Against yours.

You can smell his frangrance:

Strong, sweet-

And now distant.

All senses are resurrected

In a path your synapses formed so long ago,

You almost forgot it;

Alive and remembered now. 
And against your tongue;

You can taste again

The soft, sweet flavour

Of words once said. 

Now, the flavour lost

Under the bitter taste of your last fight;

The sour taste of accusations;

The bittersweet ‘Goodbye, Adieu’

A raven’s ‘nevermore.’
All paths that formed between you

Are now lost or barred

Or destroyed beyond recognition.

But there are paths still-

Formed by the very cells of your body:

Junctions;

Synapses-

That come alive with the trigger of a single sound,

An image, a voice, a smell-

And all senses tread those paths again

Within yourself. 

-Sidra Maryam

Cries from Syria

Published April 30, 2016 by sidmary

Four years later and still… #AleppoisBurning

portfoliopassionsandpurple

Syria Children of Freedom Syria Children of Freedom (Photo credit: FreedomHouse)

For once, I have no words for what is happening. Is it medieval times, or dark ages? Is it ancient customs of physical hate, or the primitive nature of brute men? What is happening? Where is the world going? Is it the new Holocaust? When will this end? When will the strife and the perseverance, the strength and the patience bear results?!

Children don’t die! They are the symbol of life! If they can carry their flag, and with it their dead: they will win… Nasr-um-min-Allah-wa-Fat-hun-qareeb!! (Help and victory from Allah is near!)

It’s the dead waiting to be buried. The hands and the burial grounds are wailing and exhausted…Young and old, men and women, children: the martyrs call for peace…Its a call from the wild… When children die, they shake the heavens… Humanity cries… They are children!! Are we to have a holocaust…

View original post 75 more words

No Apology

Published June 19, 2015 by sidmary

Mehreen Kasana

On my way to class, I take the Q train to Manhattan and sit down next to an old white man who recoils a noticeable bit. I assume it’s because I smell odd to him, which doesn’t make sense because I took a shower in the morning. Maybe I’m sitting too liberally the way men do on public transit with their legs a mile apart, I think to myself. That also doesn’t apply since I have my legs crossed. After a few seconds of inspecting any potential offence caused, I realize that it has nothing to do with an imaginary odor or physical space but with the keffiyeh around my neck that my friend gifted me (the Palestinian scarf – an apparently controversial piece of cloth). It is an increasingly cold October in NYC. Sam Harris may not have told you but we Muslims need our homeostasis at a healthy…

View original post 2,295 more words

For the Love of Learning

Published March 4, 2015 by sidmary

Who among us has never seen or experienced the early morning frenzy that seizes the households where everyone has to leave for some place or the other and reach before a certain time? School students, college students, university students, office workers…it is a routine unmanned by occupation. However early you get up, and however fast you get ready, the clock in the morning ticks at an unparalleled speed trying to make you late.

What if in this situation, in the time it takes you to hear the horn, open the door and move out, your van leaves? What if, even as you stand at the gate, you see the receding behind of the indomitable vehicle mocking you in the face for the one second delay? At least once in a lifetime, this has happened with most of us.

But wait…! What if your wish or need to get to school, or college overpowers the misery and seething anger you are feeling at the situation? What if you get into your car and drive across half the city to reach the institution, only to realize that you are one minute late and cannot enter the premises? Blam! There goes the world crumbling around you; one more morning incident to fire your nerves and heat your blood. You go quickly over the schedule of the day in your mind weighing how important attending classes today was…and you comfort yourself with the conclusion that you will get notes from your friend and all will be fine. Then you go home and plop on the bed, making up for the sleep you lost last night making an assignment you had to submit today.

What a comedy of errors! Or maybe a tragedy? Who knows? However, there is one very important aspect to this not uncommon scenario that it would a tragedy to not explore: the policy of educational institutions to send students back home even if they are half a minute late. Yes, just thirty seconds worth of delay.

Let us look first at the reasons for this strict policy. It is majorly because institutions want to instill the value of punctuality in their students, and maintain some decorum in the school that such strict policies are made; and yet one is forced to question: is all fine with this?

The early schools which were the centers of learning and research were homely places where all were welcome. They were institutes from where learning developed and advanced, and the forbears of the educational institutions we have today. They developed the sciences which are taught in our schools today, but what were their salient features? These were schools which remained open at all times. It was sin to close the doors of learning on those who sought them. Knowledge was sacred, and withholding it from the seeker was blasphemy.

In the modern day, when education has been institutionalized, rules and policies are required to be stricter. Students are and should be expected to adhere to certain norms of behavior, but the strict policy and rule making should follow some rules too. Humans are not sheep- all to be herded indiscriminately by the same stick, and education and learning is not a child’s play to be taken lightly and undervalued by the centers of education themselves.

To instill punctuality in students and maintain the decorum of schools and colleges, penalties are and should be issued to those who undervalue the importance of learning and those who are religiously non-punctual, but to send students home who are late once in a blue moon and with genuine reason is blasphemy! What educational institutions encourage this way is students going home and sleeping the productive morning hours away. Along with the student, they are equally to blame for the loss of precious time and perhaps more for not understanding the value and importance of one whole day of learning.

It is about time that educational institutions make policies with practicality and the objective of learning in their minds. The effort of one who wakes up in the wee morning hours, gets ready and travels a good half hour or more to get to school or college should be appreciated and respected, and more than the clock’s face should be considered when sending one back down the same path they took to learning.

Open-Book

–Sidra Maryam

Storm

Published February 12, 2015 by sidmary

THERE

On that hot summer’s day, the woman was was dragged out of her house. The area was deserted but for this group of people- and it was day. It was so hot, one could barely stand being out in the sun- and it was desolate.

The woman had a baby in her arms to whom she clung as if her life depended on it. A look of naked terror and horror adorned her face- and yet she was brave.

They led her to the center of the wide lane beyond the house where the ground was coarse and burning under her feet. Dust and sand settled on it for there was no wind.

They took the baby from her, and she tried to hold on, pleading and screaming. The baby was crying too now- writhing- extending his arms towards his mother, and bawling in the fierce grip of the men. His face was soaked, and her tears fell readily to the ground. One wondered why leaves did not sprout where they fell- but tears are salty…

They held her by the arms and pulled her away, and it took three men to do so. She looked at the angel’s face, then looked away. She looked up at the sun which glared down upon her without mercy, and she looked at the sky which was blazing white, and hurting her eyes. She then looked to the horizon, where far beyond the line of her vision, there were other people and other children.

She then looked at the ground and fell on her knees, covering her baby in his royal mantle from heaven by her body.

Somewhere afar, seas, and crimson blood, and rain and love and pain washed ashore in wild, furious and passionate waves that reached deep into the earth and high up to the heavens. The sun suddenly dimmed, as if a switch had been turned off, and the waves slowly receded, losing their tumult in their mournful sorrow.

HERE

“How very tragic,” said Saima, scanning the newspaper at the breakfast table and simultaneously dipping a piece of toast in her tea.

“What darling?” her husband looked up distractedly, sounding vaguely concerned.

NOW

Saima went to the office after sending her children to school. She had a long wearisome day, and came home late in the afternoon when her children were quietly playing in the playroom, attended by their nurse.

She washed up and fell into bed, thoroughly exhausted, for a long nap.

As she slept, dark clouds gathered on the horizon far far away.

Occasionally, a passerby would stop and look up towards it, a frown creasing his brow, before he would busy himself again. A few television channels and even news-reporters did a short report on the weather condition, assuring the people that there was nothing to worry about. Some of the newspapers too published a short column on the conditions the next day. When Saima saw them at the breakfast table, she said again: “How very tragic!” and her looked up, a frown creasing his brow, vaguely concerned.

LATER

The storm brewed and brewed, and the clouds darkened, and no one knew how, but suddenly they were upon the city, darkening everything.

It was not a storm- it was apocalypse.

The sky tore apart in flashes of bright, white light, and the sky fell onto the earth- but it was crying from more than anger- it was crying from hurt too…and it was as if it was not the sky pouring down, but the sea- and yet, leaves did not sprout, because it was the city, and all the paths were graveled.

The wind howled in every ear, and they all heard- probably for the first time ever. People came out of their homes, and for the first time, they saw too.

Saima gathered her children in her arms, and ran towards the closest, widest expanse of plain land: the mosque. There were already so many people there, one could almost be sure it was apocalypse.

She looked about her, the terror in her heart peeping at the world from behind her eyes. These ran now over many words plastered on the walls. Disjointed words leapt into her visions- words that said “faith” and “brothers” and “body” and “pain”1. Words that said “haraj’ and “bloodshed” and “bloodshed”2.

She closed her eyes, but the mist gathered and her face was wet. The ground shook beneath her feet and she held her children to herself in a vice-like grip. Her eyes were still closed and her children held onto her in terror.

The sky still raged, the wind still howled, and the ground still shook. They reminded one of the seas, and crimson blood, and rain and love and pain, all washed ashore in angry tumult…

–Sidra Maryam

%d bloggers like this: