Published March 18, 2022 by sidmary

اس کشمکش میں بیٹھی ہوں
کہ زندگی کا حاصل کیا
جستجو ہی کافی ہے
یا اس سے یہ ضروری ہے
کہ مراد حاصل ہو؟
اور اگر مراد حاصل ہو
تو جستجو سے بالاتر
بھی کوئی زندگی ہے کیا؟
دعا کو ہاتھ اٹھا کے میں
سوچ میں پڑی ہوں اب
جستجو کو مانگوں
یا کہ
جستجو کے حاصل کو

سدرہ مریم

Published March 13, 2022 by sidmary

بہت سے لمحے جو اپنی طرز کے آخری ہوں
جب بیتتے ہیں
تو ان لمحوں میں
دل میں کہیں یہ یقین بستا ہے
– ان لمحوں سے کئ اور لمحے
بس  ان کے پیچھے ہی آ رہے ہیں

تمہارے ساتھ کی آخری ساعتوں کو میں نے
یوں گزارا ہے جیسے وقت ہو جاں کنی کا
تمہارے ساتھ کے سب لمحوں پہ
یہ آخری لمحے
آج بھی پہرا دے رہے ہیں

ہمارے ساتھ کا وقت اپنی موت مر چکا ہے
مگر مری جاں کنی کے لمحے
ایسے زندہ جیسے تم آج بھی
جا رہے ہو
گئے نہیں ہو

میں اس اذیت میں سوچتی ہوں
کہ آگہی کچھ ٹھہر جاتی
تو کیا برا تھا

یہ بھی اچھا ہے
کہ اور بہت سے اخیر لمحے
یوں خموشی سے وقت کی رو میں بہہ گئے ہیں
کہ جیسے فرقت ہو چند لمحوں کی
اور
وہ وقت آیا ہی چاہتا ہو
جسے زندگی نے بھلا دیا ہے

سدرہ مریم

Published March 12, 2022 by sidmary

اپنی شخصیت سازی میں
اتنی منزلوں سےگزرے ہیں-
اتنے مرحلوں کو کاٹا ہے,
جیسے خول میں چھپا کیڑا
پردہ پھاڑ کر نکلتا ہو
اور ہر بار پھاڑنے پر وہ
اک نئ کائنات پاتا ہو
اور وہ کائنات بھی پردہ ہو
جس کو پھر پھاڑ کر نکلنا ہو

ایسے میں یہ خیال آتا ہے
کہ اس جہان فانی میں
آخر کتنے جہان بستے ہیں؟
یا میری ذات کے اندر
وجود در وجود راز رہتے ہیں
جو اپنی نمود کی خاطر
تلاطم کی راہ تکتے ہیں

سدرہ مریم

Published February 11, 2022 by sidmary

فون کی اسکرین پر
جانے کتنے ہی لمحے
مری انگلیاں
کپکپاتی رہیں
اس اک لفظ پر
جس کو پوروں سے چھو لوں
تو میرا تمہارا تعلق
منقطع ہوسکے

میں نے دل کو سنبھالا
نظر کو جھکا کر
وہ چھو بھی لیا…
میں نے سوچا تھا شاید
کہ اس عمل سے
کہیں تو جہاں میں
کچھ ایسا ہوگا
دھماکے سے جیسا
جو شاہد ہو اس پر
کہ میرا تمہارا تعلق
قطع ہو گیا ہے

مگر میرے چاروں طرف
بس سکوں ہی رہا
جیسے امروز و فردا کی
یہی ریت ہو

اور مرا دل-
ہاں وہ بھی ہنسنے لگا
مجھ سے کہنے لگا
کہ بظاہر تعلق قطع کر بھی لو
تو دلوں کے جہاں پر تو
ہر گز تمہارا کوئی بس نہیں
تمہارا تو دل
بس یہیں پر رہے گا
تم آگے بڑھو

میں مسافر صفت
اپنا دل چھوڑ کر
واں سے آگے بڑھی
میں نے جانا
تعلق کی یہ ڈور ایسی نہیں
جو قطع ہو سکے

سدرہ مریم

تم ہی ہو

Published February 8, 2022 by sidmary

یہ کیسا مرحلہ ہے کہ
گزرنا کٹھن ہے لیکن
گزرنا بھی ضروری ہے.

اور اپنے پاؤں پر چل کرہی
اس مجلس سے جانا ہے
جہاں کی چوکٹھوں سے دل
لپٹ کر رو رہا ہے کہ
متاع جاں کو کیسے چھوڑ کر
آگے بڑھا جائے؟!

مسافر کو مگر
ہر حال ہی میں چلنا ہوتا ہے.

سفر کے راستوں میں, منزلوں پر
روشنی میں اور اندھیروں میں
تمہاری یاد ہی لیکن
قدم کو ڈگمگانے سے بچائے گی.

مسافر کو پلٹ کر دیکھنے پر
جومینارہ رہ دکھائے گا
وہ تم ہی ہو

سدرہ مریم

آگہی

Published August 25, 2021 by sidmary

تمہاری آنکھوں کے خواب سارے

سراب سارے

میں اپنی ہستی کو دان کرکے خرید لاؤں

تمہاری دنیا کو سجاؤں

تو پھر بتاؤں وہ حال دل جو چھپا چھپا کے لئے پھرا ہوں


تمہاری آنکھوں کے خواب سارے-

سراب سارے

میری آنکھوں میں ایک خواب-

فقط سراب


میں اپنی حالت تمہاری حالت کو دیکھتا ہوں

یہ بے خبری اور آگہی کا دائرہ ہے

میں غم آگہی میں جلتا ہوں تن بدن

اور تم

اپنے خواب-یعنی سراب

پانے کی جستجو میں

اپنا سب کچھ جلا چکے ہو


سدرہ مریم

رہ جاؤ

Published August 23, 2020 by sidmary


مرے ہاتھ پر جو
زندگی کی لکیر ہے
اس کا اک سرا
تمہارے نام سے
موسوم ہے

مجھے لگنے لگا ہے کہ جیسے تم
میری نظروں سے
گم ہو رہے ہو

تمہارے تعاقب میں
مجھ سے مری زندگی
کھو نا جائے

بتاؤ مجھے
میں اپنی مٹھی اگر ان لکیروں پہ
بند کرلوں
تو رہ جاؤ گے؟

  • سدرہ مریم

نسبتیں

Published February 17, 2020 by sidmary

یہ ساری نسبتیں
حسرت کی, بارش سے…
پرائ ہیں.

مرے تو شہر میں ساون
فلک کے سارے در کھلنے کا موقعہ ہے

یہ قطرے جو بلندی سے مرے آنگن میں آتے ہیں
کسی کے بند ہونٹوں کی دعا,
کوئ آرزو مقبول ہونے کا
پیام ہوتے ہیں

کھلے در کی خبر پاکر
کسی زنگ خوردہ حسرت کو
اوپر آسمانوں تک سفر کا اذن ملتا ہے

اور اگر ایسے میں
کوئ
یاد آجائے
تو آنکھوں کی نمی دھونے کو
بارش پاس ہوتی ہے
اگر دل کا زخم کوئ کھل بھی جائے تو
خوشبو, ہوا, پانی
سبھی مرحم لگاتے ہیں

وہ کہتے ہیں
کہ اس موسم میں داغ دل ابھرتا ہے
وہ کیا جانیں
کہ میرے شہر میں
ساون میں
داغ دل اترتے ہیں

لامتناہی

Published November 1, 2019 by sidmary

میرے تخیل کی بربادیوں میں

تمہارا بھی حصہ ہے

وقت تو ازل اور ابد کی معین مقرر حدوں میں

مقید ہی ہے

میری ذات اور اس زمیں کی تخلیق سے

ان پر گزری ہوئ ایک ایک ساعت کا بھی حساب ہو اگر

تو یہ وقت اتنا بھی لمبا نہیں.

اور میری موت تک

یا ابد تک بھی جتنے بھی لمحے لکھے ہیں

وہ سب ایک گنتی کے مقروض ہیں

اگر مری اور تمہاری تباہ حالیاں

ان متعین حدوں کے سارے زمانوں پہ بھی پھیلی ہوتیں

تو کم تھا اس سے

کہ میرے تخیل, تصور میں

وقت اور زماں کی ہر اک قید سے بالاتر

ہر زمانے کی وسعت میں دس اور زماں کی اضافت, جمع جتنی مدت میں

خیال اور حقیقت کی حد کے کبھی اس طرف اور کبھی اس طرف

لمحہ لمحہ صدی جتنے میرے تخیل میں یہ رقم ہوتیں

پر ایسا ہی ہے

وقت تو اک مقرر سی چھوٹی سی مدت ہے

وہ لفظ ‘لا متناہی’ تو شاید فقط میری سوچوں کی وسعت کی تعریف کے ہی لئے خلق ہوا

ان کی بربادیوں اور تباہ حالیوں, ان کی تنہائیوں کو بھی سوچو کبھی

ان میں تم اپنا حصہ بھی دیکھو کبھی

سدرہ مریم

اگر دو خدا ہوتے سنسار میں

Published October 24, 2019 by sidmary

بارہا پڑھا سنا اور سوچا کہ اگر خدانخواستہ ایک سے زائد خدا ہوتے تو بےچارے انسان کا کیا بنتا۔ اس کی ایک مثال اکثر دی جاتی تھی کہ تعلیمی ادارے میں اگر پرنسپل اور وائس پرنسپل دونوں ہی مختار کل ہوتے تو دونوں ہی کو اپنے اصول و ضوابط لاگو کرنے کا شوق ہوتا۔ وہ اپنے اپنے احکام جاری کرتے جو اکثر متضاد ہوتے اور نتیجتا ادارے میں افرا تفری اور شدید بد نظمی پیدا ہوتی، کوئی کام درستی سے ہو جانا تو محال، ہونا ہی مشکل ہو جاتا ۔ نظام بھی درہم برہم ہوتا اور اس میں رہنے والے لوگوں کا ذہنی سکون بھی۔
اس مثال پر ہمیشہ تصوراتی تخلیاتی طور پر ہی غور کرنے کا موقعہ ملا تھا، گزشتہ سال اس کو عین الیقین کے ساتھ کارفرما دیکھ لیا۔

غالبا مئی کی بات ہے جب ہمارے امتحانات کی آمد آمد تھی کہ اچانک ایک طویل کیس کی سماعت کے بعد کورٹ کا فیصلہ منظر عام پر آیا کہ تمام میڈیکل کالجز جن میں سیمسٹر کی بنیاد پر امتحانات لیے جاتے ہیں اب سالانہ بنیادوں پر امتحانا ت ہوا کریں گے، اور یہ کہ یہ فیصلہ پی ایم ڈی سی کی منظوری کے بعد فی الفور نافذ العمل ہوگا۔ کچھ ہی دنوں میں اطلاع موصول ہوئ کہ پی ایم ڈی سی نے منظوری دے دی ہےاور پورے تعلیمی نظام کی یہ تبدیلی فی الفور نافذ العمل ہو گی۔ ان دنوں ہمارے یونیوسٹی میں طلباء و طالبات حراساں بھاگتے دوڑتے نظر آتے تھے۔ کہیں چپکے سے کوئ رو رہا ہوتا تھا، کوئ بار بار انتظامی دفاتر کا چکر لگا رہا ہوتا تھا کہ امتحانات کی تیاری کی جائے یا نہ کی جائے ؟ بیرون شہر یا ملک جانے کے ٹکٹ کروا لیے جائیں یا نا کروائے جائیں؟ جو پرنسپل کے دفتر جاتا وہ الگ اطلاع لے کر پلٹتا۔ جو امتحانی پرچوں کے دفتر کا رخ کرتا وہ الگ سندیسہ لاتا اور جو سٹوڈنٹ برانچ جاتاوہ کوئی اور بات کہتا۔

ملک کے ممتاز ترین تعلیمی ادارے میں گویا مذاق کی طرح کئی ہفتے یہ تگ و دو جاری رہی۔ بالآخر یہ فیصلہ صادر ہوا کہ 20 دن کے امتحانی وقفے کے بجائے سیمسٹر کی کلاسز کے اختتام پر ایک مہینے کی تعطیلات ہوں گی۔ اس کے بعد نام نہاد اگلے سیمسٹر کا آغاز ہو جائے گا۔ نئے سیمسٹر کے دو تین ھفتے گزر جانے کے بعد ایک ھفتے کا امتحانی وقفہ ہو گا جس کے بعد پچھلے سیمسٹر کے امتحانات اسی طرح ہوں گے جس طرح ہوتے آئے ہیں۔ البتہ سال کے آخر پر سالانہ امتحانات کی شرط کو پورا کرنے کے لیے ایک اضافی پرچہ شامل کر لیا جائے گا جس میں پہلے سیمسٹر کے سارے مضامین سے سوالات ہوں گے۔

فیصلہ اگرچہ پسندیدہ نہیں تھا مگر قابل قبول تھا اور ہم نے یونیوسٹی انتظامیہ کے اس حکم نامے پر برضا سر تسلیم خم کر لیا۔

کچھ اسی وقت کی بات ہے کہ اقرباء کے توسط سے میڈکل کالجز میں داخلے کے لیے ہونے والے این ٹی ایس کے امتحانات کے حوالے سے جاری ہونے والے پارہ صفت پروانے نظروں سے گزرتے رہے۔ اے لیول اور انٹر کے امتحانات کے جون میں ختم ہونے کے بعد پہلے پہل جو اعلان ہوئے وہ کچھ یوں تھے کے این ٹی ایس کا پرچہ اگست کے اواخر میں ہو گا اور 2 گھنٹوں میں 100 سوالات کے بجائے ڈھائی گھنٹوں میں 200 سوالات پر مبنی ہوگا اور سوالات کا تناسب بھی مختلف ہو گا۔ بورڈ کے امتحانات کے بعد یہ ڈھائی تین مہینوں کا مختصر وقفہ تھا جس میں اے لیول کے طلبا کو انٹر کے دو سال پر مبنی نصاب کی چھ کتابوں کو صفحہ اول سے پڑھنا تھا اور انٹر کے طلبا کو نئے انداز سے۔ اگرچہ مضامین کی مناسبت سے سوالات کے تناسب میں تبدیلی اچھی بات تھی مگر اس عرصے میں انٹر کے طلبا کے لیےجنہوں نے اپنے تعلیمی نظام میں کبھی ایم سی کیو کرنا سیکھے ہی نہیں ، یہ فیصلہ شدید تشویش ناک تھا ۔ اے لیول کے طلبا الگ پریشان تھے کہ چھ کتابوں کے لیے وہ جو پانچ چھ مہینے سوچ کر بیٹھے تھے اب وہ میسر نہ تھے۔

داخلے کی پالیسیز میں کچھ خوش آیند باتیں بھی تھیں کہ گورمنٹ اداروں میں داخلوں سے پہلے پرائوٹ ادارے داخلے نہیں لیں گے ، کسی بھی سرکاری یا پرائیوٹ ادارے میں داخلے کے لیے انٹر میں کم از کم 70 فیصد مارکس اور این ٹی ایس میں کم از کم 120 نمبر حاصل کرنا لازمی ہو گا۔ اور یہ کہ پرائیوٹ ادارے ایک مقررہ حد سے زیادہ فیس نہیں لیں گے۔ ان پالیسیز سے امید تھی کہ پرائیوٹ اداروں کی دھاندلیوں میں کچھ کمی واقعہ ہو گی جن کی فیسیں آسمانوں پر ہوتی ہیں۔ سرکاری اداروں میں داخلوں سے پہلے داخلے لے لینے کی وجہ سے بہت سے افراد سرکاری ادارے میں داخلہ نہ ملنے کے اندیشے سے اپنی سیٹ رکھنے کے لیے داخلے کی فیس جمع کروا دیتے ہیں جس کی واپسی نہیں ہوتی اور یہ بھی ان اداروں کے لیے کثیر کمائی کا ذریعہ ہوتا ہے۔ اہلیت کا معیار قائم کرنے سے امید تھی کہ نا اہل طلبا صرف پیسوں کی بنیاد پر اس حساس شعبے میں داخل ہونے سے روک دیے جائیں گے جس کی پڑھائی بھی ان کے بس سے باہر ہوتی ہے اور ڈگری مل جانے کے بعد جو معاشرے کے لیے بھی اکثر ناسور بنتے ہیں۔

امتحان کا دن جیسے جیسے قریب آتا گیا اس کی حتمی تاریخ انعقاد کے حوالے سے اتنی ہی صورتحال غیر یقینی ہوتی گئی۔ بالآخر دو دفعہ تاخیر کے بعد امتحان لے ہی لیا گیا۔

دستاویزات جمع کروانے کے بعد فہرست لگنے کی پہلی تاریخ 14 اکتوبر کا اعلان ہوا ، مگر ایسا ہو جائے یہ آخر کیسے ممکن تھا؟ امتحان کے صبر آزما مرحلے سے گزرنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے انتظار میں طلبا ایک بار پھر انگشت بدنداں ہیں۔ امتحان سے پہلے جاری ہونے والے پروانےجن میں داخلے کی نئی پالسیز کا اعلان تھا ایک بار پھر ارباب اختیار کے درمیان زیر بحث ہیں اور داخلے پہلے کی طرح لیے جانے پر باتیں ہو رہی ہیں گویا اتنی اندھیر نگری ہے کہ اچھائی کے فیصلے پر پچھتایا جا رہا ہے۔ چنانچہ کسی کو داخلہ ہوتے ہوتے نہ ہونے کا دھڑکا لگا ہےاورکسی کو نہ ہوتے ہوتے داخلہ مل جانے کی امید نے باندھے رکھا ہے۔
جاننے والے کچھ متاثر طلبا کا غم غلط کرنے کی کوششوں کے دوران مگر اپنے اوپر ہی ایک نو وارد غم آن پڑا۔ یونیوسٹی انتظامیہ کی طرف سے یہ اعلان ہوا کہ اس سال کے امتحانات کے لیے ادارے نے جو امتحانی پالیسی تشکیل دی تھی اسے پی ایم ڈی سی ‘سالانہ امتحان’ ماننے سے انکاری ہے۔ لہذا پچھلے سیمسٹر کے سارے مضامین پر مبنی ایک پرچے کے بجائے اس نام نہاد سیمسٹر کے امتحانات کے ساتھ ساتھ پچھلے سیمسٹر کے سارے مضامین کے 3-4 پرچے اور وائوا الگ الگ ہی ہوں گے، اور پچھلے نام نہاد سیمسٹر کے پرچوں کی اب کوئی حیثیت ہو گی بھی تو نا ہونے کے برابر۔ صورتحال ایسے مراحل میں داخل ہو چکی تھی کہ طلبا اور انتظامیہ دونوں ہی احتجاج کرنے یا مزید کسی تبدیلی کے لیے تحریک چلانے کے حوالے سے خود کو مجبور پاتے تھے، کہ اتنے میں صدارتی اعلان جاری ہو کہ۔۔۔

پی ایم ڈی سی کے ادارے کو ہی تحلیل کر دیا گیا ہےاور اسے ایک نئے ادارے پی ایم سی کے تحت کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔ مزید یہ کہ ایک ہفتے تک اس کے دفاتر پر تالا پڑا رہے گا۔
ہم اس شش و پنج میں مبتلا تھے کہ اس خبر پر خوش ہوا جائے یا پریشان کہ اتنی دیر میں باقی تفصیلات منظر عام پر آئیں اور ہمیں یقین ہوگیا کہ خوشیوں کے سارے دن تو عرصہ ہوا بیت چکے ہیں۔ پرائیوٹ اداروں پر لگائی جانے والی قد غنیں کھول دی گئی ہیں اور ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کے امتحانات سے بعد ہاؤس جاب کا اہل ہونے کے لیے طلبا کو ایک مزید این ایل ای کا امتحان دینا ہو گا جو اس سے پہلے صرف بیرون ملک سے پڑھ کر آنے والے افراد کے لیے پریکٹس کی اجازت کے لیے لازمی ہو تا تھا۔

آخر اگر ماہرین طب کے معیار کو قائم رکھنا ہے تو اداروں میں داخلے کے وقت جو چھان پھٹک کا معیار قائم کیا تھا اس سے کیوں پیچھے ہٹے؟ اگر جامعات کے تعلیمی معیار پر اطمینان نہیں ہے تو اس نظام کی بہتری کے لیے کیوں منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی؟ اس کے بجائے اگر مزید ایک امتحان کو لازمی کیا جا رہا ہے تو فائدہ تو صرف اور صرف حکومت کے کوائفوں کا ہے۔

سال شروع سے جو بیت رہی ہے اس پر بس یہ سوچ رہی ہوں کہ “گئے ہم بھی تھے دیکھنے ‘اور تماشا بھی ہوا'”

یہاں ہر ایک مختار کل بنا بیٹھا تھا۔ میڈیکل کی تعلیم کے ماہرین ملک بھر میں اتنے ہیں کہ ہاتھوں پر گن لیے جائیں۔ عدالت ان معاملوں میں فیصلے صادر کر دیتی ہے جو اس کے حدود اختیار میں کم از کم عقلا تو نہیں آتے۔ تعلیمی نظاموں کی تبدیلی جو اصولا کئی سالوں کی تحقیق اور تجربہ کی محتاج ہوتی ہے، فی الفور نافذالعمل فیصلوں کی مار ٹھہرتی ہے۔ حکومتی فیصلے کسی بھی بہتر متبادل کو پیش کیے بغیر رائج چیزوں پر خط نسخ پھیر دیتے ہیں۔ اور سب سے فیصلہ کن اختیار تو پردے کے پیچھے چھپے ان سرمایہ کاروں کا ہوتا ہے جن کے لیے صحت ہو تعلیم یا حساس ادارے، سب کاروبار ہوتے ہیں۔

نوحہ تو لازم ہے، مگر کس پر کروں؟ مستقبل قریب پر جس میں سارے امتحانات دوبارہ دینے ہیں؟ یا پھر مستقبل بعید پر؟ جس میں این ایل ای کا امتحان سر پر لٹک رہا ہے؟ یا شاید ماضی سب سے زیادہ میرے نوحوں کا حقدار ہے، کہ آخر کن لوگوں کو اپنے معاملات پر تسلط دے دیا۔

سدرہ مریم

%d bloggers like this: